<?xml version="1.0"?>
<feed xmlns="http://www.w3.org/2005/Atom" xml:lang="en">
	<id>https://www.4training.net/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Mpy</id>
	<title>4training - User contributions [en]</title>
	<link rel="self" type="application/atom+xml" href="https://www.4training.net/api.php?action=feedcontributions&amp;feedformat=atom&amp;user=Mpy"/>
	<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/Special:Contributions/Mpy"/>
	<updated>2026-10-25T13:07:50Z</updated>
	<subtitle>User contributions</subtitle>
	<generator>MediaWiki 1.39.17</generator>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77326</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77326"/>
		<updated>2026-10-20T17:04:37Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنے کا جوازنہیں)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یاپھرخداسےاپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہماراایمان ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکے۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/31/ur&amp;diff=77325</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/31/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/31/ur&amp;diff=77325"/>
		<updated>2026-10-20T17:04:36Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77324</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77324"/>
		<updated>2026-10-20T17:02:17Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنے کا جوازنہیں)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یاپھرخداسےاپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہماراایمان ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/25/ur&amp;diff=77323</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/25/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/25/ur&amp;diff=77323"/>
		<updated>2026-10-20T17:02:16Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑتے ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77322</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77322"/>
		<updated>2026-10-20T17:00:28Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنے کا جوازنہیں)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یاپھرخداسےاپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہماراایمان ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/24/ur&amp;diff=77321</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/24/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/24/ur&amp;diff=77321"/>
		<updated>2026-10-20T17:00:26Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہماراایمان ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77320</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77320"/>
		<updated>2026-10-20T16:58:24Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنے کا جوازنہیں)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یاپھرخداسےاپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/20/ur&amp;diff=77319</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/20/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/20/ur&amp;diff=77319"/>
		<updated>2026-10-20T16:58:21Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یاپھرخداسےاپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77318</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77318"/>
		<updated>2026-10-20T16:56:08Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنے کا جوازنہیں)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/17/ur&amp;diff=77317</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/17/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/17/ur&amp;diff=77317"/>
		<updated>2026-10-20T16:56:07Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنے کا جوازنہیں)۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77316</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77316"/>
		<updated>2026-10-20T16:54:37Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/17/ur&amp;diff=77315</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/17/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/17/ur&amp;diff=77315"/>
		<updated>2026-10-20T16:54:36Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77314</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77314"/>
		<updated>2026-10-20T16:52:54Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/13/ur&amp;diff=77313</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/13/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/13/ur&amp;diff=77313"/>
		<updated>2026-10-20T16:52:54Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;* مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77312</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77312"/>
		<updated>2026-10-20T16:49:42Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/13/ur&amp;diff=77311</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/13/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/13/ur&amp;diff=77311"/>
		<updated>2026-10-20T16:49:40Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77310</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77310"/>
		<updated>2026-10-20T16:49:19Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== (میرےساتھ) کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/12/ur&amp;diff=77309</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/12/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/12/ur&amp;diff=77309"/>
		<updated>2026-10-20T16:49:18Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;(میرےساتھ) کیاہواتھا؟&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77308</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77308"/>
		<updated>2026-10-20T16:48:28Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/10/ur&amp;diff=77307</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/10/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/10/ur&amp;diff=77307"/>
		<updated>2026-10-20T16:48:27Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77306</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77306"/>
		<updated>2026-10-20T16:47:42Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/8/ur&amp;diff=77305</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/8/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/8/ur&amp;diff=77305"/>
		<updated>2026-10-20T16:47:41Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77304</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77304"/>
		<updated>2026-10-20T16:46:00Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/7/ur&amp;diff=77303</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/7/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/7/ur&amp;diff=77303"/>
		<updated>2026-10-20T16:45:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77302</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77302"/>
		<updated>2026-10-20T16:41:59Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/6/ur&amp;diff=77301</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/6/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/6/ur&amp;diff=77301"/>
		<updated>2026-10-20T16:41:57Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77300</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77300"/>
		<updated>2026-10-20T16:31:19Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسے خدا کے سپرد کرتی/کرتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کر لیتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کر دیتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/4/ur&amp;diff=77299</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/4/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/4/ur&amp;diff=77299"/>
		<updated>2026-10-20T16:31:18Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ  یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77298</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77298"/>
		<updated>2026-10-20T16:21:41Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تکلیف دہ تجربات کو محض بھلا نہیں سکتے اور صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسے خدا کے سپرد کرتی/کرتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کر لیتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کر دیتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/3/ur&amp;diff=77297</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/3/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/3/ur&amp;diff=77297"/>
		<updated>2026-10-20T16:21:39Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77296</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77296"/>
		<updated>2026-10-20T16:20:32Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزید غلط استعمال یا استحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تکلیف دہ تجربات کو محض بھلا نہیں سکتے اور صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسے خدا کے سپرد کرتی/کرتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کر لیتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کر دیتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/2/ur&amp;diff=77295</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/2/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/2/ur&amp;diff=77295"/>
		<updated>2026-10-20T16:20:30Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77294</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77294"/>
		<updated>2026-10-20T16:16:34Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ جسں کے نتیجہ میں ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ یاپھر ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزید غلط استعمال یا استحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تکلیف دہ تجربات کو محض بھلا نہیں سکتے اور صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسے خدا کے سپرد کرتی/کرتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کر لیتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کر دیتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/1/ur&amp;diff=77293</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/1/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/1/ur&amp;diff=77293"/>
		<updated>2026-10-20T16:16:31Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77292</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77292"/>
		<updated>2026-10-20T15:19:43Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگر کوئ عمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگا زخم بھی تلخی میں بدل سکتا ہے۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ جسں کے نتیجہ میں ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ یاپھر ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزید غلط استعمال یا استحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تکلیف دہ تجربات کو محض بھلا نہیں سکتے اور صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسے خدا کے سپرد کرتی/کرتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کر لیتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کر دیتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/25/ur&amp;diff=77291</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/25/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/25/ur&amp;diff=77291"/>
		<updated>2026-10-20T15:19:42Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77290</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77290"/>
		<updated>2026-10-20T15:18:20Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگر کوئ عمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگا زخم بھی تلخی میں بدل سکتا ہے۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ جسں کے نتیجہ میں ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ یاپھر ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزید غلط استعمال یا استحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تکلیف دہ تجربات کو محض بھلا نہیں سکتے اور صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسے خدا کے سپرد کرتی/کرتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کر لیتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کر دیتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
جس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/24/ur&amp;diff=77289</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/24/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/24/ur&amp;diff=77289"/>
		<updated>2026-10-20T15:18:17Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77288</id>
		<title>Forgiving Step by Step/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Forgiving_Step_by_Step/ur&amp;diff=77288"/>
		<updated>2026-10-20T14:52:28Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگر کوئ عمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگا زخم بھی تلخی میں بدل سکتا ہے۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ جسں کے نتیجہ میں ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ یاپھر ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزید غلط استعمال یا استحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ &#039;معاف کر دینا&#039; ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تکلیف دہ تجربات کو محض بھلا نہیں سکتے اور صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم &#039;آزاد&#039; ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنا کیا ہے؟ ==&lt;br /&gt;
معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسے خدا کے سپرد کرتی/کرتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کر لیتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کر دیتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== معاف کرنے کے مراحل ==&lt;br /&gt;
بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسانی والا راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔}}&lt;br /&gt;
=== آپ کے ساتھ کیاہواتھا؟ ===&lt;br /&gt;
* تفصیل سے بیان کریں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟ ===&lt;br /&gt;
* جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 3. گناہ کو نام دیں۔ ===&lt;br /&gt;
* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔}}&lt;br /&gt;
=== 4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔ ===&lt;br /&gt;
* ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یا خدا سے اپنے جذبات چھپاتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
=== 5. زبان سے بول کر معاف کریں۔ ===&lt;br /&gt;
* اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔&lt;br /&gt;
* عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔ ==&lt;br /&gt;
خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہمیں اس بات کامکمل یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
جس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مزید اشارے ==&lt;br /&gt;
;معاون کی مدد لیں&lt;br /&gt;
:معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!&lt;br /&gt;
;ہمارااپنا گناہ&lt;br /&gt;
:جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!&lt;br /&gt;
;خود کو معاف کرنا&lt;br /&gt;
:کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔&lt;br /&gt;
;خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“&lt;br /&gt;
:کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔&lt;br /&gt;
;معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا&lt;br /&gt;
:اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکیں۔&lt;br /&gt;
== خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&#039;&#039;&#039;اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟&#039;&#039;&#039;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔&lt;br /&gt;
مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:&lt;br /&gt;
* اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟&lt;br /&gt;
* تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== مشق ==&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟}}&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|معاف_کرنے_کے_اقدامات.odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|1.3}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/17/ur&amp;diff=77287</id>
		<title>Translations:Forgiving Step by Step/17/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:Forgiving_Step_by_Step/17/ur&amp;diff=77287"/>
		<updated>2026-10-20T14:52:26Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;* غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
* &amp;lt;i&amp;gt;عام غلطی:&amp;lt;/i&amp;gt; ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اسے گناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنا ممکن نہیں ہو سکتا)۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77286</id>
		<title>God&#039;s Story (first and last sacrifice)/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77286"/>
		<updated>2026-10-14T10:56:33Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اگر آپ یہ سب کچھ دل سے کہہ سکتے ہیں، تو کسی کو یہ سمجھانے دیں کہ اس نئی زندگی کا آغاز کیسے ہوتا ہے۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages /&amp;gt;&lt;br /&gt;
== بہترین آغاز ==&lt;br /&gt;
* خدا نے دنیا اور پہلے انسانوں—آدم اور حوا—کو تخلیق کیا۔&lt;br /&gt;
* اُس نے انہیں ایک بہترین جگہ، یعنی ’باغِ عدن‘ میں رکھا۔ انہیں کسی بھی درخت کا پھل کھانے کی آزادی تھی، سوائے ایک درخت کے۔ خدا نے انہیں خبردار کیا تھا: ”اگر تم اُس درخت کا پھل کھاؤ گے تو مر جاؤ گے!“&lt;br /&gt;
* سب کچھ مکمل اور بہترین تھا: نہ کوئی بیماری تھی، نہ موت اور نہ ہی کوئی شرمندگی؛ اور وہ خدا کے بہت قریب تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرم دنیا میں آئے۔ ==&lt;br /&gt;
* شیطان حوا کے پاس آیا اور اسے ورغلایا۔ اس نے اور آدم نے ممنوعہ پھل کھا لیا۔&lt;br /&gt;
* فوراً ہی وہ خوفزدہ ہو گئے اور انہیں شرمندگی کا احساس ہوا کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ برہنہ ہیں؛ چنانچہ انہوں نے پتوں سے اپنے جسم ڈھانپے اور خدا سے چھپ گئے۔&lt;br /&gt;
* خدا نے ان کی نافرمانی کی سزا میں انہیں باغ سے نکال دیا۔&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: ایک &amp;quot;چھوٹے&amp;quot; سے گناہ کے نتیجے میں سخت سزا، موت اور خدا کے ساتھ تعلق ٹوٹ جانے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرمندگی کا پردہ: نئے کپڑے اور ایک وعدہ شدہ نجات دہندہ ==&lt;br /&gt;
* خدا اب بھی اُن سے محبت کرتا تھا اور اُس نے اُنہیں جانور کی کھال سے بنے کپڑے دیے: آدم اور حوا کے گناہ اور شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک جانور کی قربانی ضروری تھی۔ ہے نا دلچسپ بات؟&lt;br /&gt;
* یہ پہلی قربانی خدا نے فراہم کی تھی۔ بعد میں آنے والے انبیاء نے بھی قربانیاں پیش کیں۔&lt;br /&gt;
* خدا نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیں بچانے کے لیے ایک خاص قربانی بھیجے گا۔&lt;br /&gt;
* انبیاء نے اُس وعدہ شدہ نجات دہندہ، یعنی ”مسیح“ کے بارے میں مزید تفصیلات بتائیں: وہ گناہ اور شرمندگی پر فتح پائے گا اور ہمیں دکھائے گا کہ دوبارہ خدا کے قریب کیسے آیا جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عیسیٰ، مسیحا(عیسیٰ مسیح) ==&lt;br /&gt;
* یسوع ایک کنواری، مریم کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہیں ”مسیحا“ اور ”خداکاکلام“ کہا گیا۔&lt;br /&gt;
* وہ لوگوں سے محبت کرتے تھے، انہوں نے کبھی گناہ نہیں کیا، کبھی کسی کو قتل نہیں کیا اور کبھی دولت جمع نہیں کی۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے عظیم معجزے دکھائے: بیماروں کو شفا دی، بدروحوں کو نکالا اور مردوں کو زندہ کیا۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے ہمیں گناہ سے باز آنے کی دعوت دی اور ہمیں سکھایا کہ خدا کون ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خدا کا برہ — ہمارے لیے قربانی ==&lt;br /&gt;
* جب یحییٰ نبی نے یسوع کو دیکھا تو کہا: ”دیکھو، یہ خدا کا برہ (قربانی کا میمنا) ہے!“&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: یسوع نے پیش گوئی کی تھی: ”مجھے مرنا ہے، لیکن میں دوبارہ جی اٹھوں گا۔“&lt;br /&gt;
* یسوع کامل تھے، مگر کچھ لوگوں نے انہیں رد کر دیا۔ انہوں نے ان کا مقابلہ نہیں کیا اور لوگوں نے انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ یسوع ہمارے لیے خدا کی طرف سے قربانی کے طور پر ہلاک ہوئے۔&lt;br /&gt;
* لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، بالکل ویسے ہی جیسا کہ یسوع نے پہلے وعدہ کیا تھا!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ہمیں ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ ==&lt;br /&gt;
* ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے تمام گناہوں اور شرمناک کاموں—بشمول آپ کے ناپاک خیالات اور تمام رازوں—پر مبنی ایک ویڈیو کلپ تیار کر لے۔ اگر یہ سب کچھ منظرِ عام پر آ جائے اور دوسرے لوگ وہ ویڈیو کلپ دیکھ سکیں، تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟&lt;br /&gt;
* خدا ان باتوں کو نظر انداز نہیں کرتا، اور ان کا انجام سزا اور موت ہے۔&lt;br /&gt;
* ہمیں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے اور اپنی شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ یسوع ہمیں یہی پیشکش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ایک نئی زندگی ==&lt;br /&gt;
* ہم یسوع پر ایمان لا کر اس پیشکش کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی باتوں پر یقین رکھیں اور اُس کی اطاعت کریں: ہم اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ دیں اور اُس طرزِ زندگی کو اپنائیں جیسا یسوع نے بسر کیا۔&lt;br /&gt;
* جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو یسوع ہمیں پاک کرتا ہے اور خدا کے ساتھ ہمارا تعلق بحال کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
* اس مقصد کے لیے، خدا ہمیں اپنی روح عطا کرتا ہے۔ یہ ”پاک روح“ ہم میں خدا کی وہ قدرت ہے جو ہمیں بدی کا مقابلہ کرنے، خدا کی مرضی جاننے اور یسوع کی مانند زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;hr style=&amp;quot;border:1px solid black; margin-top:1.5em&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
== یہ دلچسپ ہے، ہے نا؟ ==&lt;br /&gt;
* آدم اور حوا کو موت کی سزا دی گئی حالانکہ انہوں نے صرف ایک گناہ کیا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا نے قربانی کے ذریعے ان کے لباس تبدیل کیے۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو ”خدا کا برہ“ (میمنا) کہا گیا۔ (برے کو قربانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔)&lt;br /&gt;
* یسوع نے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;br /&gt;
* یسوع وفات پا گئے، لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا جیسا کہ اُنہوں نے کہا تھا۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو خدا نے ہمارے لیے قربانی کے طور پر بھیجا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا ہمیں اپنی روح عطا کرنا چاہتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خداکی پیشکش کی طرف میراجواب == &lt;br /&gt;
خدا نے اپنے حصہ کاکام کر دیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
؛کیا میں نے اُس کی پیشکش قبول کی؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں یسوع کا ہوں؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا میں اپنے گناہ اور غلط راستوں سے پھر گیا؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ کچھ حد تک&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں نے خدا کی روح پائی ہے؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== مجھے کیا چیز روک رہی ہے؟ ==&lt;br /&gt;
مجھے کیاسمجھ نہیں آیا؟ کہاں میں غیر یقینی کا شکار ہوں؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خدا سے گفتگو: میرے آئندہ اقدامات == &lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|یہاں آپ کو خدا سے گفتگو کے لیے تجاویز ملیں گی۔ اس میں وہ سب کچھ شامل کریں جو آپ کے دل میں ہے اور جو آپ خدا سے کہنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کسی بات کے بارے میں غیر یقینی محسوس کر رہے ہیں، تو آپ ایمانداری سے خدا کو یہ بتا سکتے ہیں۔ ایسے شخص کی رہنمائی حاصل کریں جسے خدا سے گفتگو کرنے کا تجربہ ہو۔}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میری زندگی میں کون سی چیزیں ویسی نہیں ہیں جیسا کہ تو چاہتا ہے؟ مجھے کن گناہوں سے منہ موڑنے کی ضرورت ہے؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اے یسوع، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے (نجات کا) راستہ نکالا اور میرے لیے قربان ہوا۔ میں اپنی زندگی بدلنے اور ہر اس چیز سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار ہوں جسے تو گناہ کہتا ہے۔ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اے روح القدوس(روحِ پاک)، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد فرما۔ مجھے پاک کر اور مجھ میں معموری عطا کر۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|اگر آپ یہ سب کچھ دل سے کہہ سکتے ہیں، تو کسی کو یہ سمجھانے دیں کہ اس نئی زندگی کا آغاز کیسے ہوتا ہے۔}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|2.2}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/19/ur&amp;diff=77285</id>
		<title>Translations:God&#039;s Story (first and last sacrifice)/19/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/19/ur&amp;diff=77285"/>
		<updated>2026-10-14T10:56:32Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اگر آپ یہ سب کچھ دل سے کہہ سکتے ہیں، تو کسی کو یہ سمجھانے دیں کہ اس نئی زندگی کا آغاز کیسے ہوتا ہے۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اگر آپ یہ سب کچھ دل سے کہہ سکتے ہیں، تو کسی کو یہ سمجھانے دیں کہ اس نئی زندگی کا آغاز کیسے ہوتا ہے۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77284</id>
		<title>God&#039;s Story (first and last sacrifice)/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77284"/>
		<updated>2026-10-14T10:55:56Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages /&amp;gt;&lt;br /&gt;
== بہترین آغاز ==&lt;br /&gt;
* خدا نے دنیا اور پہلے انسانوں—آدم اور حوا—کو تخلیق کیا۔&lt;br /&gt;
* اُس نے انہیں ایک بہترین جگہ، یعنی ’باغِ عدن‘ میں رکھا۔ انہیں کسی بھی درخت کا پھل کھانے کی آزادی تھی، سوائے ایک درخت کے۔ خدا نے انہیں خبردار کیا تھا: ”اگر تم اُس درخت کا پھل کھاؤ گے تو مر جاؤ گے!“&lt;br /&gt;
* سب کچھ مکمل اور بہترین تھا: نہ کوئی بیماری تھی، نہ موت اور نہ ہی کوئی شرمندگی؛ اور وہ خدا کے بہت قریب تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرم دنیا میں آئے۔ ==&lt;br /&gt;
* شیطان حوا کے پاس آیا اور اسے ورغلایا۔ اس نے اور آدم نے ممنوعہ پھل کھا لیا۔&lt;br /&gt;
* فوراً ہی وہ خوفزدہ ہو گئے اور انہیں شرمندگی کا احساس ہوا کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ برہنہ ہیں؛ چنانچہ انہوں نے پتوں سے اپنے جسم ڈھانپے اور خدا سے چھپ گئے۔&lt;br /&gt;
* خدا نے ان کی نافرمانی کی سزا میں انہیں باغ سے نکال دیا۔&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: ایک &amp;quot;چھوٹے&amp;quot; سے گناہ کے نتیجے میں سخت سزا، موت اور خدا کے ساتھ تعلق ٹوٹ جانے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرمندگی کا پردہ: نئے کپڑے اور ایک وعدہ شدہ نجات دہندہ ==&lt;br /&gt;
* خدا اب بھی اُن سے محبت کرتا تھا اور اُس نے اُنہیں جانور کی کھال سے بنے کپڑے دیے: آدم اور حوا کے گناہ اور شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک جانور کی قربانی ضروری تھی۔ ہے نا دلچسپ بات؟&lt;br /&gt;
* یہ پہلی قربانی خدا نے فراہم کی تھی۔ بعد میں آنے والے انبیاء نے بھی قربانیاں پیش کیں۔&lt;br /&gt;
* خدا نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیں بچانے کے لیے ایک خاص قربانی بھیجے گا۔&lt;br /&gt;
* انبیاء نے اُس وعدہ شدہ نجات دہندہ، یعنی ”مسیح“ کے بارے میں مزید تفصیلات بتائیں: وہ گناہ اور شرمندگی پر فتح پائے گا اور ہمیں دکھائے گا کہ دوبارہ خدا کے قریب کیسے آیا جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عیسیٰ، مسیحا(عیسیٰ مسیح) ==&lt;br /&gt;
* یسوع ایک کنواری، مریم کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہیں ”مسیحا“ اور ”خداکاکلام“ کہا گیا۔&lt;br /&gt;
* وہ لوگوں سے محبت کرتے تھے، انہوں نے کبھی گناہ نہیں کیا، کبھی کسی کو قتل نہیں کیا اور کبھی دولت جمع نہیں کی۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے عظیم معجزے دکھائے: بیماروں کو شفا دی، بدروحوں کو نکالا اور مردوں کو زندہ کیا۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے ہمیں گناہ سے باز آنے کی دعوت دی اور ہمیں سکھایا کہ خدا کون ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خدا کا برہ — ہمارے لیے قربانی ==&lt;br /&gt;
* جب یحییٰ نبی نے یسوع کو دیکھا تو کہا: ”دیکھو، یہ خدا کا برہ (قربانی کا میمنا) ہے!“&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: یسوع نے پیش گوئی کی تھی: ”مجھے مرنا ہے، لیکن میں دوبارہ جی اٹھوں گا۔“&lt;br /&gt;
* یسوع کامل تھے، مگر کچھ لوگوں نے انہیں رد کر دیا۔ انہوں نے ان کا مقابلہ نہیں کیا اور لوگوں نے انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ یسوع ہمارے لیے خدا کی طرف سے قربانی کے طور پر ہلاک ہوئے۔&lt;br /&gt;
* لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، بالکل ویسے ہی جیسا کہ یسوع نے پہلے وعدہ کیا تھا!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ہمیں ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ ==&lt;br /&gt;
* ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے تمام گناہوں اور شرمناک کاموں—بشمول آپ کے ناپاک خیالات اور تمام رازوں—پر مبنی ایک ویڈیو کلپ تیار کر لے۔ اگر یہ سب کچھ منظرِ عام پر آ جائے اور دوسرے لوگ وہ ویڈیو کلپ دیکھ سکیں، تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟&lt;br /&gt;
* خدا ان باتوں کو نظر انداز نہیں کرتا، اور ان کا انجام سزا اور موت ہے۔&lt;br /&gt;
* ہمیں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے اور اپنی شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ یسوع ہمیں یہی پیشکش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ایک نئی زندگی ==&lt;br /&gt;
* ہم یسوع پر ایمان لا کر اس پیشکش کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی باتوں پر یقین رکھیں اور اُس کی اطاعت کریں: ہم اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ دیں اور اُس طرزِ زندگی کو اپنائیں جیسا یسوع نے بسر کیا۔&lt;br /&gt;
* جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو یسوع ہمیں پاک کرتا ہے اور خدا کے ساتھ ہمارا تعلق بحال کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
* اس مقصد کے لیے، خدا ہمیں اپنی روح عطا کرتا ہے۔ یہ ”پاک روح“ ہم میں خدا کی وہ قدرت ہے جو ہمیں بدی کا مقابلہ کرنے، خدا کی مرضی جاننے اور یسوع کی مانند زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;hr style=&amp;quot;border:1px solid black; margin-top:1.5em&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
== یہ دلچسپ ہے، ہے نا؟ ==&lt;br /&gt;
* آدم اور حوا کو موت کی سزا دی گئی حالانکہ انہوں نے صرف ایک گناہ کیا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا نے قربانی کے ذریعے ان کے لباس تبدیل کیے۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو ”خدا کا برہ“ (میمنا) کہا گیا۔ (برے کو قربانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔)&lt;br /&gt;
* یسوع نے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;br /&gt;
* یسوع وفات پا گئے، لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا جیسا کہ اُنہوں نے کہا تھا۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو خدا نے ہمارے لیے قربانی کے طور پر بھیجا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا ہمیں اپنی روح عطا کرنا چاہتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خداکی پیشکش کی طرف میراجواب == &lt;br /&gt;
خدا نے اپنے حصہ کاکام کر دیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
؛کیا میں نے اُس کی پیشکش قبول کی؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں یسوع کا ہوں؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا میں اپنے گناہ اور غلط راستوں سے پھر گیا؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ کچھ حد تک&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں نے خدا کی روح پائی ہے؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== مجھے کیا چیز روک رہی ہے؟ ==&lt;br /&gt;
مجھے کیاسمجھ نہیں آیا؟ کہاں میں غیر یقینی کا شکار ہوں؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خدا سے گفتگو: میرے آئندہ اقدامات == &lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|یہاں آپ کو خدا سے گفتگو کے لیے تجاویز ملیں گی۔ اس میں وہ سب کچھ شامل کریں جو آپ کے دل میں ہے اور جو آپ خدا سے کہنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کسی بات کے بارے میں غیر یقینی محسوس کر رہے ہیں، تو آپ ایمانداری سے خدا کو یہ بتا سکتے ہیں۔ ایسے شخص کی رہنمائی حاصل کریں جسے خدا سے گفتگو کرنے کا تجربہ ہو۔}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میری زندگی میں کون سی چیزیں ویسی نہیں ہیں جیسا کہ تو چاہتا ہے؟ مجھے کن گناہوں سے منہ موڑنے کی ضرورت ہے؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اے یسوع، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے (نجات کا) راستہ نکالا اور میرے لیے قربان ہوا۔ میں اپنی زندگی بدلنے اور ہر اس چیز سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار ہوں جسے تو گناہ کہتا ہے۔ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اے روح القدوس(روحِ پاک)، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد فرما۔ مجھے پاک کر اور مجھ میں معموری عطا کر۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|If you can say all this from your heart then let someone explain to you how the start of this new life works.}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|2.2}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/32/ur&amp;diff=77283</id>
		<title>Translations:God&#039;s Story (first and last sacrifice)/32/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/32/ur&amp;diff=77283"/>
		<updated>2026-10-14T10:55:54Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: &lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اے روح القدوس(روحِ پاک)، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد فرما۔ مجھے پاک کر اور مجھ میں معموری عطا کر۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77282</id>
		<title>God&#039;s Story (first and last sacrifice)/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77282"/>
		<updated>2026-10-14T10:55:11Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اے روح القدوس، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد فرما۔ مجھے پاک کر اور مجھ میں معموری عطا کر۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages /&amp;gt;&lt;br /&gt;
== بہترین آغاز ==&lt;br /&gt;
* خدا نے دنیا اور پہلے انسانوں—آدم اور حوا—کو تخلیق کیا۔&lt;br /&gt;
* اُس نے انہیں ایک بہترین جگہ، یعنی ’باغِ عدن‘ میں رکھا۔ انہیں کسی بھی درخت کا پھل کھانے کی آزادی تھی، سوائے ایک درخت کے۔ خدا نے انہیں خبردار کیا تھا: ”اگر تم اُس درخت کا پھل کھاؤ گے تو مر جاؤ گے!“&lt;br /&gt;
* سب کچھ مکمل اور بہترین تھا: نہ کوئی بیماری تھی، نہ موت اور نہ ہی کوئی شرمندگی؛ اور وہ خدا کے بہت قریب تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرم دنیا میں آئے۔ ==&lt;br /&gt;
* شیطان حوا کے پاس آیا اور اسے ورغلایا۔ اس نے اور آدم نے ممنوعہ پھل کھا لیا۔&lt;br /&gt;
* فوراً ہی وہ خوفزدہ ہو گئے اور انہیں شرمندگی کا احساس ہوا کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ برہنہ ہیں؛ چنانچہ انہوں نے پتوں سے اپنے جسم ڈھانپے اور خدا سے چھپ گئے۔&lt;br /&gt;
* خدا نے ان کی نافرمانی کی سزا میں انہیں باغ سے نکال دیا۔&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: ایک &amp;quot;چھوٹے&amp;quot; سے گناہ کے نتیجے میں سخت سزا، موت اور خدا کے ساتھ تعلق ٹوٹ جانے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرمندگی کا پردہ: نئے کپڑے اور ایک وعدہ شدہ نجات دہندہ ==&lt;br /&gt;
* خدا اب بھی اُن سے محبت کرتا تھا اور اُس نے اُنہیں جانور کی کھال سے بنے کپڑے دیے: آدم اور حوا کے گناہ اور شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک جانور کی قربانی ضروری تھی۔ ہے نا دلچسپ بات؟&lt;br /&gt;
* یہ پہلی قربانی خدا نے فراہم کی تھی۔ بعد میں آنے والے انبیاء نے بھی قربانیاں پیش کیں۔&lt;br /&gt;
* خدا نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیں بچانے کے لیے ایک خاص قربانی بھیجے گا۔&lt;br /&gt;
* انبیاء نے اُس وعدہ شدہ نجات دہندہ، یعنی ”مسیح“ کے بارے میں مزید تفصیلات بتائیں: وہ گناہ اور شرمندگی پر فتح پائے گا اور ہمیں دکھائے گا کہ دوبارہ خدا کے قریب کیسے آیا جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عیسیٰ، مسیحا(عیسیٰ مسیح) ==&lt;br /&gt;
* یسوع ایک کنواری، مریم کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہیں ”مسیحا“ اور ”خداکاکلام“ کہا گیا۔&lt;br /&gt;
* وہ لوگوں سے محبت کرتے تھے، انہوں نے کبھی گناہ نہیں کیا، کبھی کسی کو قتل نہیں کیا اور کبھی دولت جمع نہیں کی۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے عظیم معجزے دکھائے: بیماروں کو شفا دی، بدروحوں کو نکالا اور مردوں کو زندہ کیا۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے ہمیں گناہ سے باز آنے کی دعوت دی اور ہمیں سکھایا کہ خدا کون ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خدا کا برہ — ہمارے لیے قربانی ==&lt;br /&gt;
* جب یحییٰ نبی نے یسوع کو دیکھا تو کہا: ”دیکھو، یہ خدا کا برہ (قربانی کا میمنا) ہے!“&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: یسوع نے پیش گوئی کی تھی: ”مجھے مرنا ہے، لیکن میں دوبارہ جی اٹھوں گا۔“&lt;br /&gt;
* یسوع کامل تھے، مگر کچھ لوگوں نے انہیں رد کر دیا۔ انہوں نے ان کا مقابلہ نہیں کیا اور لوگوں نے انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ یسوع ہمارے لیے خدا کی طرف سے قربانی کے طور پر ہلاک ہوئے۔&lt;br /&gt;
* لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، بالکل ویسے ہی جیسا کہ یسوع نے پہلے وعدہ کیا تھا!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ہمیں ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ ==&lt;br /&gt;
* ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے تمام گناہوں اور شرمناک کاموں—بشمول آپ کے ناپاک خیالات اور تمام رازوں—پر مبنی ایک ویڈیو کلپ تیار کر لے۔ اگر یہ سب کچھ منظرِ عام پر آ جائے اور دوسرے لوگ وہ ویڈیو کلپ دیکھ سکیں، تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟&lt;br /&gt;
* خدا ان باتوں کو نظر انداز نہیں کرتا، اور ان کا انجام سزا اور موت ہے۔&lt;br /&gt;
* ہمیں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے اور اپنی شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ یسوع ہمیں یہی پیشکش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ایک نئی زندگی ==&lt;br /&gt;
* ہم یسوع پر ایمان لا کر اس پیشکش کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی باتوں پر یقین رکھیں اور اُس کی اطاعت کریں: ہم اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ دیں اور اُس طرزِ زندگی کو اپنائیں جیسا یسوع نے بسر کیا۔&lt;br /&gt;
* جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو یسوع ہمیں پاک کرتا ہے اور خدا کے ساتھ ہمارا تعلق بحال کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
* اس مقصد کے لیے، خدا ہمیں اپنی روح عطا کرتا ہے۔ یہ ”پاک روح“ ہم میں خدا کی وہ قدرت ہے جو ہمیں بدی کا مقابلہ کرنے، خدا کی مرضی جاننے اور یسوع کی مانند زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;hr style=&amp;quot;border:1px solid black; margin-top:1.5em&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
== یہ دلچسپ ہے، ہے نا؟ ==&lt;br /&gt;
* آدم اور حوا کو موت کی سزا دی گئی حالانکہ انہوں نے صرف ایک گناہ کیا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا نے قربانی کے ذریعے ان کے لباس تبدیل کیے۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو ”خدا کا برہ“ (میمنا) کہا گیا۔ (برے کو قربانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔)&lt;br /&gt;
* یسوع نے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;br /&gt;
* یسوع وفات پا گئے، لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا جیسا کہ اُنہوں نے کہا تھا۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو خدا نے ہمارے لیے قربانی کے طور پر بھیجا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا ہمیں اپنی روح عطا کرنا چاہتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خداکی پیشکش کی طرف میراجواب == &lt;br /&gt;
خدا نے اپنے حصہ کاکام کر دیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
؛کیا میں نے اُس کی پیشکش قبول کی؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں یسوع کا ہوں؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا میں اپنے گناہ اور غلط راستوں سے پھر گیا؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ کچھ حد تک&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں نے خدا کی روح پائی ہے؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== مجھے کیا چیز روک رہی ہے؟ ==&lt;br /&gt;
مجھے کیاسمجھ نہیں آیا؟ کہاں میں غیر یقینی کا شکار ہوں؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خدا سے گفتگو: میرے آئندہ اقدامات == &lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|یہاں آپ کو خدا سے گفتگو کے لیے تجاویز ملیں گی۔ اس میں وہ سب کچھ شامل کریں جو آپ کے دل میں ہے اور جو آپ خدا سے کہنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کسی بات کے بارے میں غیر یقینی محسوس کر رہے ہیں، تو آپ ایمانداری سے خدا کو یہ بتا سکتے ہیں۔ ایسے شخص کی رہنمائی حاصل کریں جسے خدا سے گفتگو کرنے کا تجربہ ہو۔}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میری زندگی میں کون سی چیزیں ویسی نہیں ہیں جیسا کہ تو چاہتا ہے؟ مجھے کن گناہوں سے منہ موڑنے کی ضرورت ہے؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اے یسوع، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے (نجات کا) راستہ نکالا اور میرے لیے قربان ہوا۔ میں اپنی زندگی بدلنے اور ہر اس چیز سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار ہوں جسے تو گناہ کہتا ہے۔ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اے روح القدوس، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد فرما۔ مجھے پاک کر اور مجھ میں معموری عطا کر۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|If you can say all this from your heart then let someone explain to you how the start of this new life works.}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|2.2}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/32/ur&amp;diff=77281</id>
		<title>Translations:God&#039;s Story (first and last sacrifice)/32/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/32/ur&amp;diff=77281"/>
		<updated>2026-10-14T10:55:10Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اے روح القدوس، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد فرما۔ مجھے پاک کر اور مجھ میں معموری عطا کر۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اے روح القدوس، براہِ کرم اس معاملے میں میری مدد فرما۔ مجھے پاک کر اور مجھ میں معموری عطا کر۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77280</id>
		<title>God&#039;s Story (first and last sacrifice)/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77280"/>
		<updated>2026-10-14T10:53:35Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اے یسوع، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے (نجات کا) راستہ نکالا اور میرے لیے قربان ہوا۔ میں اپنی زندگی بدلنے اور ہر اس چیز سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار ہوں جسے تو گناہ کہتا ہے۔ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages /&amp;gt;&lt;br /&gt;
== بہترین آغاز ==&lt;br /&gt;
* خدا نے دنیا اور پہلے انسانوں—آدم اور حوا—کو تخلیق کیا۔&lt;br /&gt;
* اُس نے انہیں ایک بہترین جگہ، یعنی ’باغِ عدن‘ میں رکھا۔ انہیں کسی بھی درخت کا پھل کھانے کی آزادی تھی، سوائے ایک درخت کے۔ خدا نے انہیں خبردار کیا تھا: ”اگر تم اُس درخت کا پھل کھاؤ گے تو مر جاؤ گے!“&lt;br /&gt;
* سب کچھ مکمل اور بہترین تھا: نہ کوئی بیماری تھی، نہ موت اور نہ ہی کوئی شرمندگی؛ اور وہ خدا کے بہت قریب تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرم دنیا میں آئے۔ ==&lt;br /&gt;
* شیطان حوا کے پاس آیا اور اسے ورغلایا۔ اس نے اور آدم نے ممنوعہ پھل کھا لیا۔&lt;br /&gt;
* فوراً ہی وہ خوفزدہ ہو گئے اور انہیں شرمندگی کا احساس ہوا کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ برہنہ ہیں؛ چنانچہ انہوں نے پتوں سے اپنے جسم ڈھانپے اور خدا سے چھپ گئے۔&lt;br /&gt;
* خدا نے ان کی نافرمانی کی سزا میں انہیں باغ سے نکال دیا۔&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: ایک &amp;quot;چھوٹے&amp;quot; سے گناہ کے نتیجے میں سخت سزا، موت اور خدا کے ساتھ تعلق ٹوٹ جانے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرمندگی کا پردہ: نئے کپڑے اور ایک وعدہ شدہ نجات دہندہ ==&lt;br /&gt;
* خدا اب بھی اُن سے محبت کرتا تھا اور اُس نے اُنہیں جانور کی کھال سے بنے کپڑے دیے: آدم اور حوا کے گناہ اور شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک جانور کی قربانی ضروری تھی۔ ہے نا دلچسپ بات؟&lt;br /&gt;
* یہ پہلی قربانی خدا نے فراہم کی تھی۔ بعد میں آنے والے انبیاء نے بھی قربانیاں پیش کیں۔&lt;br /&gt;
* خدا نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیں بچانے کے لیے ایک خاص قربانی بھیجے گا۔&lt;br /&gt;
* انبیاء نے اُس وعدہ شدہ نجات دہندہ، یعنی ”مسیح“ کے بارے میں مزید تفصیلات بتائیں: وہ گناہ اور شرمندگی پر فتح پائے گا اور ہمیں دکھائے گا کہ دوبارہ خدا کے قریب کیسے آیا جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عیسیٰ، مسیحا(عیسیٰ مسیح) ==&lt;br /&gt;
* یسوع ایک کنواری، مریم کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہیں ”مسیحا“ اور ”خداکاکلام“ کہا گیا۔&lt;br /&gt;
* وہ لوگوں سے محبت کرتے تھے، انہوں نے کبھی گناہ نہیں کیا، کبھی کسی کو قتل نہیں کیا اور کبھی دولت جمع نہیں کی۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے عظیم معجزے دکھائے: بیماروں کو شفا دی، بدروحوں کو نکالا اور مردوں کو زندہ کیا۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے ہمیں گناہ سے باز آنے کی دعوت دی اور ہمیں سکھایا کہ خدا کون ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خدا کا برہ — ہمارے لیے قربانی ==&lt;br /&gt;
* جب یحییٰ نبی نے یسوع کو دیکھا تو کہا: ”دیکھو، یہ خدا کا برہ (قربانی کا میمنا) ہے!“&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: یسوع نے پیش گوئی کی تھی: ”مجھے مرنا ہے، لیکن میں دوبارہ جی اٹھوں گا۔“&lt;br /&gt;
* یسوع کامل تھے، مگر کچھ لوگوں نے انہیں رد کر دیا۔ انہوں نے ان کا مقابلہ نہیں کیا اور لوگوں نے انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ یسوع ہمارے لیے خدا کی طرف سے قربانی کے طور پر ہلاک ہوئے۔&lt;br /&gt;
* لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، بالکل ویسے ہی جیسا کہ یسوع نے پہلے وعدہ کیا تھا!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ہمیں ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ ==&lt;br /&gt;
* ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے تمام گناہوں اور شرمناک کاموں—بشمول آپ کے ناپاک خیالات اور تمام رازوں—پر مبنی ایک ویڈیو کلپ تیار کر لے۔ اگر یہ سب کچھ منظرِ عام پر آ جائے اور دوسرے لوگ وہ ویڈیو کلپ دیکھ سکیں، تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟&lt;br /&gt;
* خدا ان باتوں کو نظر انداز نہیں کرتا، اور ان کا انجام سزا اور موت ہے۔&lt;br /&gt;
* ہمیں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے اور اپنی شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ یسوع ہمیں یہی پیشکش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ایک نئی زندگی ==&lt;br /&gt;
* ہم یسوع پر ایمان لا کر اس پیشکش کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی باتوں پر یقین رکھیں اور اُس کی اطاعت کریں: ہم اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ دیں اور اُس طرزِ زندگی کو اپنائیں جیسا یسوع نے بسر کیا۔&lt;br /&gt;
* جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو یسوع ہمیں پاک کرتا ہے اور خدا کے ساتھ ہمارا تعلق بحال کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
* اس مقصد کے لیے، خدا ہمیں اپنی روح عطا کرتا ہے۔ یہ ”پاک روح“ ہم میں خدا کی وہ قدرت ہے جو ہمیں بدی کا مقابلہ کرنے، خدا کی مرضی جاننے اور یسوع کی مانند زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;hr style=&amp;quot;border:1px solid black; margin-top:1.5em&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
== یہ دلچسپ ہے، ہے نا؟ ==&lt;br /&gt;
* آدم اور حوا کو موت کی سزا دی گئی حالانکہ انہوں نے صرف ایک گناہ کیا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا نے قربانی کے ذریعے ان کے لباس تبدیل کیے۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو ”خدا کا برہ“ (میمنا) کہا گیا۔ (برے کو قربانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔)&lt;br /&gt;
* یسوع نے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;br /&gt;
* یسوع وفات پا گئے، لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا جیسا کہ اُنہوں نے کہا تھا۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو خدا نے ہمارے لیے قربانی کے طور پر بھیجا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا ہمیں اپنی روح عطا کرنا چاہتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خداکی پیشکش کی طرف میراجواب == &lt;br /&gt;
خدا نے اپنے حصہ کاکام کر دیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
؛کیا میں نے اُس کی پیشکش قبول کی؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں یسوع کا ہوں؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا میں اپنے گناہ اور غلط راستوں سے پھر گیا؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ کچھ حد تک&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں نے خدا کی روح پائی ہے؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== مجھے کیا چیز روک رہی ہے؟ ==&lt;br /&gt;
مجھے کیاسمجھ نہیں آیا؟ کہاں میں غیر یقینی کا شکار ہوں؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خدا سے گفتگو: میرے آئندہ اقدامات == &lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|یہاں آپ کو خدا سے گفتگو کے لیے تجاویز ملیں گی۔ اس میں وہ سب کچھ شامل کریں جو آپ کے دل میں ہے اور جو آپ خدا سے کہنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کسی بات کے بارے میں غیر یقینی محسوس کر رہے ہیں، تو آپ ایمانداری سے خدا کو یہ بتا سکتے ہیں۔ ایسے شخص کی رہنمائی حاصل کریں جسے خدا سے گفتگو کرنے کا تجربہ ہو۔}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میری زندگی میں کون سی چیزیں ویسی نہیں ہیں جیسا کہ تو چاہتا ہے؟ مجھے کن گناہوں سے منہ موڑنے کی ضرورت ہے؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
اے یسوع، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے (نجات کا) راستہ نکالا اور میرے لیے قربان ہوا۔ میں اپنی زندگی بدلنے اور ہر اس چیز سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار ہوں جسے تو گناہ کہتا ہے۔ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
Holy Spirit, please help me with that. Cleanse me and fill me.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|If you can say all this from your heart then let someone explain to you how the start of this new life works.}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|2.2}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/31/ur&amp;diff=77279</id>
		<title>Translations:God&#039;s Story (first and last sacrifice)/31/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/31/ur&amp;diff=77279"/>
		<updated>2026-10-14T10:53:33Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اے یسوع، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے (نجات کا) راستہ نکالا اور میرے لیے قربان ہوا۔ میں اپنی زندگی بدلنے اور ہر اس چیز سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار ہوں جسے تو گناہ کہتا ہے۔ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اے یسوع، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے (نجات کا) راستہ نکالا اور میرے لیے قربان ہوا۔ میں اپنی زندگی بدلنے اور ہر اس چیز سے چھٹکارا پانے کے لیے تیار ہوں جسے تو گناہ کہتا ہے۔ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77278</id>
		<title>God&#039;s Story (first and last sacrifice)/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/ur&amp;diff=77278"/>
		<updated>2026-10-14T10:53:12Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;__NOTOC__&amp;lt;sidebar&amp;gt;sidebar-essentials&amp;lt;/sidebar&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;languages /&amp;gt;&lt;br /&gt;
== بہترین آغاز ==&lt;br /&gt;
* خدا نے دنیا اور پہلے انسانوں—آدم اور حوا—کو تخلیق کیا۔&lt;br /&gt;
* اُس نے انہیں ایک بہترین جگہ، یعنی ’باغِ عدن‘ میں رکھا۔ انہیں کسی بھی درخت کا پھل کھانے کی آزادی تھی، سوائے ایک درخت کے۔ خدا نے انہیں خبردار کیا تھا: ”اگر تم اُس درخت کا پھل کھاؤ گے تو مر جاؤ گے!“&lt;br /&gt;
* سب کچھ مکمل اور بہترین تھا: نہ کوئی بیماری تھی، نہ موت اور نہ ہی کوئی شرمندگی؛ اور وہ خدا کے بہت قریب تھے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرم دنیا میں آئے۔ ==&lt;br /&gt;
* شیطان حوا کے پاس آیا اور اسے ورغلایا۔ اس نے اور آدم نے ممنوعہ پھل کھا لیا۔&lt;br /&gt;
* فوراً ہی وہ خوفزدہ ہو گئے اور انہیں شرمندگی کا احساس ہوا کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ برہنہ ہیں؛ چنانچہ انہوں نے پتوں سے اپنے جسم ڈھانپے اور خدا سے چھپ گئے۔&lt;br /&gt;
* خدا نے ان کی نافرمانی کی سزا میں انہیں باغ سے نکال دیا۔&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: ایک &amp;quot;چھوٹے&amp;quot; سے گناہ کے نتیجے میں سخت سزا، موت اور خدا کے ساتھ تعلق ٹوٹ جانے کی صورت میں سنگین نتائج برآمد ہوئے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== گناہ اور شرمندگی کا پردہ: نئے کپڑے اور ایک وعدہ شدہ نجات دہندہ ==&lt;br /&gt;
* خدا اب بھی اُن سے محبت کرتا تھا اور اُس نے اُنہیں جانور کی کھال سے بنے کپڑے دیے: آدم اور حوا کے گناہ اور شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک جانور کی قربانی ضروری تھی۔ ہے نا دلچسپ بات؟&lt;br /&gt;
* یہ پہلی قربانی خدا نے فراہم کی تھی۔ بعد میں آنے والے انبیاء نے بھی قربانیاں پیش کیں۔&lt;br /&gt;
* خدا نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیں بچانے کے لیے ایک خاص قربانی بھیجے گا۔&lt;br /&gt;
* انبیاء نے اُس وعدہ شدہ نجات دہندہ، یعنی ”مسیح“ کے بارے میں مزید تفصیلات بتائیں: وہ گناہ اور شرمندگی پر فتح پائے گا اور ہمیں دکھائے گا کہ دوبارہ خدا کے قریب کیسے آیا جائے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== عیسیٰ، مسیحا(عیسیٰ مسیح) ==&lt;br /&gt;
* یسوع ایک کنواری، مریم کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہیں ”مسیحا“ اور ”خداکاکلام“ کہا گیا۔&lt;br /&gt;
* وہ لوگوں سے محبت کرتے تھے، انہوں نے کبھی گناہ نہیں کیا، کبھی کسی کو قتل نہیں کیا اور کبھی دولت جمع نہیں کی۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے عظیم معجزے دکھائے: بیماروں کو شفا دی، بدروحوں کو نکالا اور مردوں کو زندہ کیا۔&lt;br /&gt;
* انہوں نے ہمیں گناہ سے باز آنے کی دعوت دی اور ہمیں سکھایا کہ خدا کون ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== خدا کا برہ — ہمارے لیے قربانی ==&lt;br /&gt;
* جب یحییٰ نبی نے یسوع کو دیکھا تو کہا: ”دیکھو، یہ خدا کا برہ (قربانی کا میمنا) ہے!“&lt;br /&gt;
* دلچسپ بات: یسوع نے پیش گوئی کی تھی: ”مجھے مرنا ہے، لیکن میں دوبارہ جی اٹھوں گا۔“&lt;br /&gt;
* یسوع کامل تھے، مگر کچھ لوگوں نے انہیں رد کر دیا۔ انہوں نے ان کا مقابلہ نہیں کیا اور لوگوں نے انہیں گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ یسوع ہمارے لیے خدا کی طرف سے قربانی کے طور پر ہلاک ہوئے۔&lt;br /&gt;
* لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا، بالکل ویسے ہی جیسا کہ یسوع نے پہلے وعدہ کیا تھا!&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ہمیں ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ ==&lt;br /&gt;
* ذرا تصور کریں کہ کوئی آپ کے تمام گناہوں اور شرمناک کاموں—بشمول آپ کے ناپاک خیالات اور تمام رازوں—پر مبنی ایک ویڈیو کلپ تیار کر لے۔ اگر یہ سب کچھ منظرِ عام پر آ جائے اور دوسرے لوگ وہ ویڈیو کلپ دیکھ سکیں، تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟&lt;br /&gt;
* خدا ان باتوں کو نظر انداز نہیں کرتا، اور ان کا انجام سزا اور موت ہے۔&lt;br /&gt;
* ہمیں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے اور اپنی شرمندگی کو ڈھانپنے کے لیے ایک قربانی کی ضرورت ہے۔ یسوع ہمیں یہی پیشکش کرتے ہیں۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
== ایک نئی زندگی ==&lt;br /&gt;
* ہم یسوع پر ایمان لا کر اس پیشکش کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اُس کی باتوں پر یقین رکھیں اور اُس کی اطاعت کریں: ہم اپنی پرانی زندگی کو پیچھے چھوڑ دیں اور اُس طرزِ زندگی کو اپنائیں جیسا یسوع نے بسر کیا۔&lt;br /&gt;
* جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو یسوع ہمیں پاک کرتا ہے اور خدا کے ساتھ ہمارا تعلق بحال کرتا ہے۔&lt;br /&gt;
* اس مقصد کے لیے، خدا ہمیں اپنی روح عطا کرتا ہے۔ یہ ”پاک روح“ ہم میں خدا کی وہ قدرت ہے جو ہمیں بدی کا مقابلہ کرنے، خدا کی مرضی جاننے اور یسوع کی مانند زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;hr style=&amp;quot;border:1px solid black; margin-top:1.5em&amp;quot;/&amp;gt;&lt;br /&gt;
== یہ دلچسپ ہے، ہے نا؟ ==&lt;br /&gt;
* آدم اور حوا کو موت کی سزا دی گئی حالانکہ انہوں نے صرف ایک گناہ کیا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا نے قربانی کے ذریعے ان کے لباس تبدیل کیے۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو ”خدا کا برہ“ (میمنا) کہا گیا۔ (برے کو قربانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔)&lt;br /&gt;
* یسوع نے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;br /&gt;
* یسوع وفات پا گئے، لیکن خدا نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا جیسا کہ اُنہوں نے کہا تھا۔&lt;br /&gt;
* یسوع کو خدا نے ہمارے لیے قربانی کے طور پر بھیجا تھا۔&lt;br /&gt;
* خدا ہمیں اپنی روح عطا کرنا چاہتا ہے۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خداکی پیشکش کی طرف میراجواب == &lt;br /&gt;
خدا نے اپنے حصہ کاکام کر دیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
؛کیا میں نے اُس کی پیشکش قبول کی؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں یسوع کا ہوں؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
؛کیا میں اپنے گناہ اور غلط راستوں سے پھر گیا؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ کچھ حد تک&lt;br /&gt;
؛کیا مجھے یقین ہے کہ میں نے خدا کی روح پائی ہے؟&lt;br /&gt;
: □ ہاں    □ نہیں    □ غیر یقینی/متذبذب&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== مجھے کیا چیز روک رہی ہے؟ ==&lt;br /&gt;
مجھے کیاسمجھ نہیں آیا؟ کہاں میں غیر یقینی کا شکار ہوں؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&amp;lt;div style=&amp;quot;background-color: #f9f9f9; border: 1px solid black; padding:5px&amp;quot;&amp;gt;&lt;br /&gt;
== خدا سے گفتگو: میرے آئندہ اقدامات == &lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|یہاں آپ کو خدا سے گفتگو کے لیے تجاویز ملیں گی۔ اس میں وہ سب کچھ شامل کریں جو آپ کے دل میں ہے اور جو آپ خدا سے کہنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کسی بات کے بارے میں غیر یقینی محسوس کر رہے ہیں، تو آپ ایمانداری سے خدا کو یہ بتا سکتے ہیں۔ ایسے شخص کی رہنمائی حاصل کریں جسے خدا سے گفتگو کرنے کا تجربہ ہو۔}}&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میری زندگی میں کون سی چیزیں ویسی نہیں ہیں جیسا کہ تو چاہتا ہے؟ مجھے کن گناہوں سے منہ موڑنے کی ضرورت ہے؟&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
Jesus, I thank You that You made a solution and that You died for me as a sacrifice. I’m ready to change my life and get rid of everything You call sin. I want to live according to Your will.&amp;lt;br/&amp;gt;&lt;br /&gt;
Holy Spirit, please help me with that. Cleanse me and fill me.&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{Translatable template|Italic|If you can say all this from your heart then let someone explain to you how the start of this new life works.}}&lt;br /&gt;
&amp;lt;/div&amp;gt;&lt;br /&gt;
&lt;br /&gt;
{{PdfDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).pdf}}&lt;br /&gt;
{{OdtDownload|Gods_Story_(first_and_last_sacrifice).odt}}&lt;br /&gt;
{{Version|2.2}}&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
	<entry>
		<id>https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/15/ur&amp;diff=77277</id>
		<title>Translations:God&#039;s Story (first and last sacrifice)/15/ur</title>
		<link rel="alternate" type="text/html" href="https://www.4training.net/index.php?title=Translations:God%27s_Story_(first_and_last_sacrifice)/15/ur&amp;diff=77277"/>
		<updated>2026-10-14T10:53:11Z</updated>

		<summary type="html">&lt;p&gt;Mpy: Created page with &amp;quot;اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&amp;quot;&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;div&gt;اے خدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے بات کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ میں تیری مرضی کے مطابق نہیں جیا۔ مجھے افسوس ہے۔ براہِ کرم مجھے معاف کر دے کہ میں نے _______________ (اس بات کا ذکر کریں جو خدا نے آپ پر ظاہر کی)۔&lt;/div&gt;</summary>
		<author><name>Mpy</name></author>
	</entry>
</feed>